
’ڈومز ڈے پلین‘ کہلایا جانے والا طیارہ دراصل بوئنگ ای فور بی ہے جسے انتہائی ہنگامی حالات جیسے کہ جوہری حملوں اور دیگر تباہ کن آفات کے وقت ایک کمانڈ سینٹر کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔
1974 میں سرد جنگ کے عروج پر سروس میں داخل ہونے والے اس طیارے کو لیس کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر امریکہ میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں یا زمین پر موجود امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز میں خلل پڑنے کی صورت میں فضائی کمانڈ سینٹر فراہم کیا جائے۔
جنگ کے وقت میں استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا یہ طیارہ ایک فضائی کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے جسے امریکہ کے صدر، سیکریٹری دفاع اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف بحرانوں اور انتہائی ہنگامی حالات کے دوران استعمال کرتے ہیں تاکہ صورتحال پر کنٹرول اور ریاست کے باقی آلات کے ساتھ رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈومز ڈے پلین نامی یہ ہوائی جہاز بغیر رکے سات دن تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ یہ لڑاکا طیاروں کے بیڑے کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

’قیامت کا بیڑا‘
امریکہ کے پاس چار ای فور بی طیاروں کا بیڑا ہے جو اپنی عسکری تیاری کو یقینی بنانے کے لیے سال بھر باقاعدہ پروازیں کرتے ہیں۔
امریکی فضائیہ فی الحال ای فور بی کو تبدیل کرنے کے لیے پانچ بوئنگ 747-8 طیاروں کی تعمیر نو اور تنظیم نو پر کام کر رہی ہے، جو پہلے کورین ایئر کے ذریعے استعمال کیا جاتا تھا۔
ہوائی جہاز تابکاری اور برقی مقناطیسی پلس شیلڈنگ، کمیونیکیشن انٹینا، کمپیوٹر، مشن سسٹم، ایک جدید ترین اندرونی ڈیزائن اور فضائی ایندھن بھرنے کی صلاحیتوں سے لیس ہوگا۔ ان پانچ طیاروں کی قیمت تقریباً 13 ارب ڈالر ہوگی۔
ڈومس ڈے پلین میں ایسی خصوصیات ہیں جو اسے جوہری آفات اور دیگر بحرانوں کے دوران پرواز کرنے کے لیے مثالی بناتی ہیں، کیونکہ یہ میزائل داغنے کی صلاحیت کے علاوہ ایٹمی حملوں، سائبر حملوں اور برقی مقناطیسی اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت جیسی صلاحیتوں سے لیس ہے جو کسی دوسرے طیارے میں دستیاب نہیں ہے۔
