Home Uncategorized ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟

ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے پاکستان کی مدد کیسے کی؟

by Admin
A+A-
Reset

وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے 29 مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی

28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سے متاثرہ ممالک میں سے ایک ترکی نے جنگ میں دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔

انقرہ نے اپنی وزارت خارجہ اور نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے ذریعے پاکستان کو سفارتی مدد فراہم کی جس نے اس عمل میں مرکزی کردار ادا کیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں بھی سہولت فراہم کی۔

ترکی کا اگلا مقصد یہ ہے کہ جنگ بندی ایک مستقل معاہدہ بن جائے اور لبنان اور شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ہو۔

banner

صدر رجب طیب اردوغان نے جنگ بندی کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم جنگ میں اعلان کردہ جنگ بندی سے خوش ہیں جس نے 28 فروری سے ہمارے خطے کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ ممکنہ اشتعال انگیزی اور تخریب کاری کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر زمین پر جنگ بندی مکمل طور پر نافذ ہو جائے گی۔‘

اردوغان نے پاکستان کو بھی مبارکباد دی، جس نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی

ترکی کے ایوان صدر کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کے ایک بیان کے مطابق، اردوغان نے جنگ بندی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دیرپا امن معاہدے کے لیے دو ہفتے کے موقع کا خوب استعمال کیا جانا چاہیے اور اس عمل کو سبوتاژ کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔

اردوغان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوست اور برادر ممالک بالخصوص پاکستان کے ساتھ مل کر حل کی جانے والی کوششوں کے لیے ترکی کی حمایت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی جنگ بندی کو زمینی سطح پر مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔‘

Skip سب سے زیادہ پڑھی جانے والی and continue reading

You may also like

Leave a Comment

WhatsApp Image 2025-07-25 at 7.19.46 AM

B42 News TV is not just a channel — it’s a platform with purpose. Built on the belief that the public deserves truth without delay, we stand proudly by our slogan:

“Awam ke Awaz, Sub Se Pehlay”

— The Voice of the People

Edtior's Picks

Latest Articles