
لاہور: مشرقِ وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی جنگی صورتحال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں انتہائی سخت حفاظتی اور کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے وزراء سے لے کر تعلیمی اداروں تک کے لیے بڑے فیصلے صادر کر دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم کے مطابق پٹرولیم بحران کے خاتمے تک تمام صوبائی وزراء کے لیے سرکاری فیول فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سرکاری افسران کی گاڑیوں کے پٹرول اور ڈیزل الاؤنس میں بھی 50 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔ مریم نواز نے وی آئی پی کلچر پر ضرب لگاتے ہوئے وزراء اور اعلیٰ افسران کی گاڑیوں کے پروٹوکول پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے؛ اب کسی بھی وزیر یا افسر کے ساتھ صرف ایک گاڑی کی اجازت ہوگی۔
تعلیمی شعبے کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے حکومت نے پنجاب بھر کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کل سے 31 مارچ تک بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تاہم، تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں۔ واضح رہے کہ پہلے سے طے شدہ امتحانات اپنے شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔
ایندھن کی کھپت اور سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے سرکاری دفاتر میں ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ نئے حکم نامے کے تحت دفاتر میں صرف انتہائی ضروری عملہ ڈیوٹی پر آئے گا جبکہ باقی ملازمین گھر سے فرائض سرانجام دیں گے۔