لاہور (22 جنوری 2026) — لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سالہ بچی زخمی ہو گئی۔ پولیس کے مطابق زخمی بچی کو فوری طبی امداد کے لیے شیخ زید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھیکے وال پنڈ میں ایک شہری نے گھر پر شیر پال رکھا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق دو افراد پالتو شیرنی کو رکشے سے اتار رہے تھے کہ اچانک اس نے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں بچی کی ٹانگ اور کان پر زخم آئے۔ واقعے کے بعد ملزمان پالتو جانور کو لے کر فرار ہو گئے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ لاہور میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔ اس سے قبل 21 دسمبر 2024 کو لاہور کے علاقے ہربنس پورہ کی ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم میں پالتو شیر پنجرے سے باہر نکل آیا تھا اور شہریوں پر حملہ کر کے تین افراد کو زخمی کر دیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ شیر علی عمران نامی شہری نے اپنے ڈیرے پر رکھا ہوا تھا، جو پنجرے سے نکل کر نالے تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں سوسائٹی کے سکیورٹی گارڈ نے شیر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جبکہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی شروع کی تھی۔
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں پالنا نہ صرف غیر قانونی بلکہ انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک بھی ہے۔

