
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اتوار کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران اور امریکہ کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے نہ صرف وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جنگ بندی کی درخواست منظور کی بلکہ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں مذاکرات بھی کیے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران اور امریکہ کے وفود مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور کے دوران فریقین کی معاونت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں سے جاری مذاکرات آج صبح ختم ہوئے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے تاکہ خطے اور اس سے بھی آگے کے لیے دیرپا امن اور خوشحالی کا حصول ممکن ہو سکے۔
’یہ اہم ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انھوں نے ایران اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہنے پر دونوں ملکوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایک گھنٹہ قبل
تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا
ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا:
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد 10 اپریل کو رات گئے پاکستان پہنچا، اس کے بعد وفد نے کم از کم دو مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف اور ایک مرتبہ پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کی تاکہ ضروری انتظامات کیے جا سکیں اور مذاکرات کے آغاز ہی میں امریکہ کی وعدہ خلافی کے خلاف باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔
’پاکستان کے وزیرِ اعظم کے ساتھ مذاکرات ہفتے کے روز 11 اپریل کو دوپہر ایک بجے شروع ہوئے جس کے چند گھنٹوں بعد امریکی فریق کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات 21 گھنٹے سے زائد تک جاری رہے۔‘
ایرنی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ایران نے بارہا اپنی تجاویز پیش کیں اور امریکی فریق کو حقیقت پسندی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ تاہم ہر مرحلے پر امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونے کے باعث آج 12 اپریل کو مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار سے متعلق کسی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ روانگی سےقبل ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔
’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔‘
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔
تاہم انھوں نے نے واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔
