
سپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے متعلق ان کی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیل نہیں آئی ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سپین نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ید رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔
الباریز نے ایک ہسپانوی ریڈیو چینل کو بتایا: ’مشرق وسطی میں جنگ، ایران پر بمباری اور ہمارے اڈوں کے استعمال کے متعلق ہسپانوی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا ‘جنگ کی مخالفت’ کا موقف واضح اور دوٹوک ہے۔
