
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد اب ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کمی سے عام صارفین کو کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ اس تبدیلی کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کمی ہوئی ہے۔ اس کمی کے بعد فی کلو قیمت تقریباً 390 روپے تک آ گئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود عام مارکیٹ میں صارفین کو سرکاری نرخوں پر گیس دستیاب نہیں ہو رہی۔ اس فرق کی وجہ سے عوام پر اضافی مالی بوجھ برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تو گھریلو صارفین کو واضح ریلیف مل سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ گھرانے جو روزانہ ایل پی جی استعمال کرتے ہیں، ان کے اخراجات میں کمی ممکن ہے۔
دوسری جانب ملک میں ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سے مسافروں کو جزوی ریلیف مل رہا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
