Home Uncategorized پی ٹی آئی نے طبی معائنے کیلئے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کر لیا

پی ٹی آئی نے طبی معائنے کیلئے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کر لیا

by Admin
A+A-
Reset

PTI files petition for Imran Khan medical checkup

فائل فوٹو

January, 31 2026

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے کیلئے ایک بار پھر نئی درخواست دائر کر دی۔

banner

پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اب تک سامنے آنے والی معلومات ناکافی اور تشویشناک ہیں، جس کے باعث قانونی راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر غیر ضروری تاخیر سے کام لیا، جو معلومات فراہم کی گئیں وہ نہ صرف نامکمل تھیں بلکہ ان سے شکوک و شبہات بھی مزید بڑھ گئے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو فوری طور پر ان تک رسائی دی جائے تاکہ ان کی صحت سے متعلق پائی جانے والی تشویش کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب وفاقی وزرا اپنے بیانات پر قائم نہیں رہتے تو پھر عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کی یقین دہانیوں پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے، شفافیت کے تقاضے پورے کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت پر پمز ہسپتال کی انتظامیہ کا بیان آگیا

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے صوابی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزرا مسلسل عمران خان کی صحت کے حوالے سے متضاد اور غلط بیانات دیتے رہے ہیں، جس سے عوامی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو حکومت کے شفافیت کے دعوے کیسے درست ثابت ہو سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اس پر کسی قسم کی ابہام یا تاخیر ناقابل قبول ہے

You may also like

Leave a Comment

WhatsApp Image 2025-07-25 at 7.19.46 AM

B42 News TV is not just a channel — it’s a platform with purpose. Built on the belief that the public deserves truth without delay, we stand proudly by our slogan:

“Awam ke Awaz, Sub Se Pehlay”

— The Voice of the People

Edtior's Picks

Latest Articles