Table of Contents
پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی مؤثر، دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے، جسے معروف بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے سراہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی، جس کے نتیجے میں اس کی عالمی اہمیت اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کی بلکہ بھارت کو سفارتی تنہائی اور بھاری تجارتی ٹیرف کے دباؤ میں بھی مبتلا کر دیا۔ جریدے نے لکھا کہ بھارت، جو طویل عرصے سے امریکا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا، امریکی ثالثی کے کردار کو اپنی خودمختاری کے منافی قرار دے کر مسترد کرتا رہا، جس کے نتیجے میں اسے سفارتی اور تجارتی محاذ پر نقصان اٹھانا پڑا۔
بھارت کی سفارتی مشکلات
رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت امریکی ثالثی کی پیشکش کو قبول نہ کرنے کے باعث نہ تو QUAD Summit میں مؤثر شرکت کر سکی، نہ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورے کو یقینی بنا سکی اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل کر پائی۔ امریکی ناراضی کے باعث بھارت پر اضافی تجارتی دباؤ بڑھا، جس سے اس کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی۔
پاکستان کی بروقت حکمتِ عملی
اس صورتحال کے برعکس پاکستان نے اسی سفارتی خلا کو ایک موقع میں تبدیل کیا۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان کی قیادت نے بروقت فیصلوں اور متوازن حکمتِ عملی کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا کی، جسے خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سراہا۔
اعلیٰ سطحی دورے اور اہم ملاقاتیں
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا اہم دورہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کی۔
تجارتی معاہدے اور سرمایہ کاری
دی ڈپلومیٹ کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی سے متعلق ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیاں پاکستان کے قدرتی وسائل اور مختلف شعبوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گی۔ اس معاہدے کو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
دفاعی اور سیکیورٹی تعاون
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکا نے پاکستان کے F-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 680 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون دوبارہ بحال ہوا، جو ماضی میں دوطرفہ تعلقات کا ایک مضبوط ستون رہا ہے۔
توانائی کے شعبے میں پیش رفت
دی ڈپلومیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا اعلان بھی کیا، جسے توانائی کے شعبے میں پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقائی چیلنجز کو اپنے فائدے میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کی سفارتی مہارت نے نہ صرف اس کی سیاسی پوزیشن مضبوط کی بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی پیش کیا۔
ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے امریکی ثالثی کو مسترد کرنے اور بڑھتی ہوئی امریکی ناراضی کے باعث اسے تجارتی اور سفارتی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پاکستان نے اسی بحران کو موقع میں بدل کر سفارتی میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ کے اختتام پر دی ڈپلومیٹ نے لکھا کہ واشنگٹن میں پاکستان کی اسٹریٹجک کامیابی خطے کی سیاست اور عالمی سفارتکاری پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

