اسلام آباد: (بی 42 نیوز)
صدر آصف علی زرداری نے کابل میں ایک چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید مذمت کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک چینی شہری زخمی اور ایک ہلاک ہوا۔ صدر زرداری نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
صدر نے ان چینی شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو افغانستان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ وہاں سیکورٹی کے خطرات اور زندگی کے لیے سنگین خطرات موجود ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ طالبان حکومت نے دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکامی دکھائی ہے، خاص طور پر افغان زمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشت گرد گروپ کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہیں کی جانی چاہیے اور خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھا جانا لازمی ہے۔ صدر نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک، جیسے تاجکستان، کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ طالبان کی جانب سے ایک وسیع البنیاد اور جامع حکومت کے قیام میں ناکامی دوحہ معاہدے کے خلاف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کرنا، اور سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔

