Home Uncategorized خشک سردی اور وائرل انفیکشنز سے بچوں میں نمونیہ کے کیسز میں اضافہ

خشک سردی اور وائرل انفیکشنز سے بچوں میں نمونیہ کے کیسز میں اضافہ

by Admin
A+A-
Reset

لاہور(19 جنوری 2026): خشک سردی اور وائرل انفیکشنز کے باعث بچوں میں نمونیہ کے کیسز خطرناک حد تک بڑھنے لگے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے پانچ بڑے سرکاری اسپتالوں میں گزشتہ سات روز کے دوران بچوں میں نمونیہ کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر طبی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق چلڈرن اسپتال میں گزشتہ سات روز میں نمونیہ سے متاثرہ 920 بچے رپورٹ ہوئے، سروسز اسپتال کے پیڈز وارڈ میں نمونیہ سے متاثرہ 700 سے زائد جبکہ میو اسپتال چلڈرن وارڈ میں گزشتہ سات روز میں 610 سے زائد بچے نمونیہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جناح اسپتال کے پیڈز وارڈ میں 450 سے زائد بچے رپورٹ ہوئے جبکہ گنگا رام اسپتال اور جنرل اسپتال میں بھی چار سے زائد بچے نمونیہ سے متاثر ہیں۔

banner

بچوں میں نمونیہ کی علامات

بچوں میں نمونیا کو ایک عام بیماری سمجھا جاتا ہے۔ یہ بیماری عام ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال چودہ فیصد بچے نمونیا کی وجہ سے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جب کہ صرف 2019 میں اس کی وجہ سے تقریباً 75 لاکھ بچے موت کا شکار ہوئے تھے۔

اس بیماری کی وجہ سے زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے بر وقت اقدامات اٹھائیں۔ اگر کسی بچے کو نمونیا لاحق ہو جائے تو اس کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اس کے اثرات کئی ہفتوں بلکہ بعض اوقات کئی مہینوں تک جاری رہتے ہیں۔

والدین کو کو چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے ان وجوہات کے متعلق جانیں جس کی وجہ سے نمونیا بچے کو شکار بناتا ہے۔ عام طور پر بچوں کو نمونیا کا سامنا بیکٹیریا، وائرسز، اور فنگس کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے۔ اس لیےنمونیا کو ایک متعدی بیماری سمجھا جاتا ہے۔ چوں کہ یہ آسانی کے ساتھ ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل ہو سکتا ہے اس لیے بچوں کو اس سے محفوظ بنانے کے لیے کچھ حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

You may also like

Leave a Comment

WhatsApp Image 2025-07-25 at 7.19.46 AM

B42 News TV is not just a channel — it’s a platform with purpose. Built on the belief that the public deserves truth without delay, we stand proudly by our slogan:

“Awam ke Awaz, Sub Se Pehlay”

— The Voice of the People

Edtior's Picks

Latest Articles