Home Uncategorized دفاتر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال : انقلاب یا نیا بحران؟ سوالات اٹھنے لگے

دفاتر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال : انقلاب یا نیا بحران؟ سوالات اٹھنے لگے

by Admin
A+A-
Reset

دفاتر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات اور استعمال کے سبب بیشتر لوگوں کو اپنے کام کی نوعیت میں تبدیلی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے پیشہ ورانہ دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں مواقع اور خدشات ساتھ ساتھ ابھر رہے ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سے تین برسوں میں ہر دس میں سے سات پیشہ ور افراد کو اپنی ملازمت کی نوعیت، ذمہ داریوں اور کام کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی توقع ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کام کی جگہوں پر اے آئی ٹولز اور جدید ورک فلو معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی پیشہ ورانہ کردار ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں۔

banner

سروے میں شامل 71 فیصد افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کے کام کی نوعیت موجودہ شکل میں برقرار نہیں رہے گی۔

یہ رپورٹ نومبر 2025 میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 1ہزار 704 پیشہ وروں کے آن لائن سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ جس کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ مختلف ادارے اے آئی کو تیزی سے اپنا تو رہے ہیں، مگر ملازمین کی تربیت اور رہنمائی اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہی۔

سروے میں شامل 61 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ ان کی کمپنیوں نے انہیں اے آئی کے مؤثر اور محفوظ استعمال کے حوالے سے مناسب رہنمائی فراہم نہیں کی، جبکہ صرف 37 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ انہیں اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے باقاعدہ تربیت دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تربیت اور منظم معاونت کی کمی نے کئی اداروں میں بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے اور ملازمین کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

مزید یہ کہ 55 فیصد پیشہ وروں کا خیال ہے کہ اے آئی کو اداروں میں مجبوری کے تحت اپنایا جا رہا ہے، جبکہ 37 فیصد کے نزدیک یہ رجحان حقیقی کاروباری ضرورت کے بجائے محض فیشن یا دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان خدشات کے باوجود عملی سطح پر اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

سروے کے مطابق 67 فیصد افراد روزمرہ کے کاموں کو آسان یا خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولز سے مدد لے رہے ہیں۔ تاہم تجربات سب کے لیے یکساں نہیں رہے۔ 69 فیصد نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام میں سہولت پیدا ہوئی، جبکہ 25 فیصد افراد کے نزدیک اس سے پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اے آئی پر اعتماد کا سوال بھی نمایاں رہا۔ صرف 49 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات پر بھروسہ کرتے ہیں، جبکہ 36 فیصد نے واضح طور پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ باقی 15 فیصد کے مطابق ان کا اعتماد کام کی نوعیت اور حالات پر منحصر ہے۔

رپورٹ مجموعی طور پر اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اے آئی کا کامیاب مستقبل محض ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہیں بلکہ مؤثر تربیت، شفاف نفاذ اور اعتماد سازی سے جڑا ہوا ہے۔

You may also like

Leave a Comment

WhatsApp Image 2025-07-25 at 7.19.46 AM

B42 News TV is not just a channel — it’s a platform with purpose. Built on the belief that the public deserves truth without delay, we stand proudly by our slogan:

“Awam ke Awaz, Sub Se Pehlay”

— The Voice of the People

Edtior's Picks

Latest Articles