
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ انہیں ابتدائی مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی تاہم بروقت علاج اور سرجری کے بعد وہ صحتیاب ہو چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دسمبر 2024 میں پروسٹیٹ کے بڑھنے کے باعث ان کی سرجری کی گئی تھی، جس کے بعد حالیہ میڈیکل چیک اپ میں ایک چھوٹا مہلک ٹیومر سامنے آیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ڈاکٹروں کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ کینسر ابتدائی مرحلے میں تھا، جسم کے دیگر حصوں میں اس کے پھیلاؤ کے کوئی آثار نہیں ملے اور تمام ٹیسٹ نتائج تسلی بخش رہے۔
یہ ہماری جنگ نہیں، توانائی وافر ہے، یورپ آبنائے ہرمز پرزیادہ انحصار کرتا ہے، امریکا
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اب مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کا معمولی طبی مسئلہ کامیابی سے علاج ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اپنی میڈیکل رپورٹ میں تاخیر کا مقصد اسے ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں سیاسی یا پروپیگنڈا کے طور پر استعمال ہونے سے بچانا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق وزیراعظم کی مجموعی صحت بہتر ہے اور انہیں معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ وہ باقاعدہ طبی نگرانی میں رہیں گے۔
