
اسلام آباد: مشیر وزیراعظم اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، اور اس کے تباہ کن نتائج مختلف ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف ممالک فکرمند ہیں، جن میں چین، مصر، سعودی عرب اور ترکی جیسے اہم ممالک پاکستان کے ساتھ رابطے اور مشاورت میں ہیں۔
ان کے مطابق بعض فریقین ایسے بھی ہیں جو جنگ کے خاتمے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ صورتحال برقرار رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے جاری رہنے یا ختم ہونے سے مختلف ممالک کے اسٹریٹجک مفادات جڑے ہوئے ہیں، اور اسی تناظر میں خطے میں سیاسی و سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ان کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے حوالے سے بھی مختلف بیانیے اور مفادات سامنے آ رہے ہیں، جن پر پاکستان کی جانب سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بلوچستان: دھادر پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد دہشتگرد ہلاک و زخمی
رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ خطرے یا صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بھارت کی جانب سے ماضی جیسی کسی بڑی غلطی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کیونکہ اسے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا ادراک ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں ہو سکتا، اس لیے خطے میں استحکام اور تحمل کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر سفارتی رابطوں کے ذریعے امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال مسلسل نگرانی میں ہے۔
