Home Uncategorized پڑوسی ملک میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ’’نپاہ وائرس‘‘ آگیا

پڑوسی ملک میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ’’نپاہ وائرس‘‘ آگیا

by Admin
A+A-
Reset

نئی دہلی (19 جنوری 2026): بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک نپاہ وائرس کے کیسز رپورٹ پوئے ہیں جس کے بعد الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نپاہ وائرس کو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ نپاہ وائرس کا شکار ہونے والی دو نرسوں میں سے ایک کی حالت میں بہتری آئی ہے جبکہ دوسری نرس کی حالت بدستور انتہائی تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تقریباً ہر انسان میں موجود وائرس لوپس کی وجہ بن سکتا ہے

طبی عملہ ضلع پوربا بردھمان میں کام کے دوران نپاہ وائرس کا شکار ہوا، تاہم حکام کہتے ہیں کہ وبا کے اصل ماخذ اور منتقلی کے طریقے کے بارے میں ابھی کچھ بھی واضح نہیں۔

banner

مغربی بنگال حکومت نے تفصیلی گائیڈ لائنز جاری کر دیں، ان ہدایات کا محور وائرس کی بروقت تشخیص، مریضوں کی سخت آئیسولیشن اور وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلیے طے شدہ پروٹوکول کے تحت علاج ہے۔

نپاہ وائرس کیا ہے؟

نپاہ وائرس ایک Zoonotic وائرس ہے یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ اس کی پہلی شناخت 1998-99 میں ملائیشیا میں پھیلنے والی ایک وبا کے دوران ہوئی تھی۔

چمگادڑ اس وائرس کا ذریعہ ہیں۔ انسان اس سے متاثرہ چمگادڑوں سے براہ راست رابطے، آلودہ خوراک، متاثرہ جانوروں یا متاثرہ انسانوں کے ساتھ قریبی تعلق کے ذریعے متاثر ہو سکتے ہیں۔

نپاہ وائرس خطرناک کیوں ہے؟

نپاہ وائرس کے انفیکشن میں شرح اموات بہت زیادہ ہے جو ماضی میں 40 سے 75 فیصد تک دیکھی گئی ہے۔

اس کی علامات بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور قے سے شروع ہو سکتی ہیں جو تیزی سے سانس کی شدید تکلیف اور دماغ کی سوزش میں بدل سکتی ہیں۔

فی الحال نپاہ وائرس کیلیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا ویکسین منظور شدہ نہیں ہے۔ علاج کا دارومدار علامات کو کنٹرول کرنے، جسمانی افعال کو برقرار رکھنے اور مزید پیچیدگیوں سے بچنے کیلیے معاون طبی امداد پر ہوتا ہے۔

You may also like

Leave a Comment

WhatsApp Image 2025-07-25 at 7.19.46 AM

B42 News TV is not just a channel — it’s a platform with purpose. Built on the belief that the public deserves truth without delay, we stand proudly by our slogan:

“Awam ke Awaz, Sub Se Pehlay”

— The Voice of the People

Edtior's Picks

Latest Articles