Table of Contents
تنویر قاسم کا الزام: ریسکیو سروسز ناکام، تاجروں نے اپنی مدد آپ سے لوگوں کو نکالا
‘۔
کراچی: (بی 42 نیوز)
گل پلازہ میں ہفتے کی رات پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد کراچی کی تاجر برادری نے کل یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزامات مسترد کر دیے کہ عمارت میں وینٹی لیشن کا نظام ناکافی تھا۔
تاجر برادری کے مطابق یومِ سوگ کے دوران کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر معطل رہیں گی اور جاں بحق افراد کے لیے دعا کے ساتھ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔
تنویر قاسم کا موقف
تنویر قاسم نے نیوز ذرائع سے گفتگو میں کہا کہ عمارت میں 16 داخلی و خارجی دروازے، 12 کھڑکیاں، ایمرجنسی ایگزٹ ریمپ، اور مکمل وینٹی لیشن سسٹم موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وینٹی لیشن کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آگ لگنے کے تقریباً سوا گھنٹے بعد تک کوئی مؤثر ریسکیو اہلکار موجود نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 200 سے 250 افراد کو ایمرجنسی ریمپ کے ذریعے خود باہر نکالا گیا اور گراؤنڈ فلور مکمل طور پر خالی کرایا گیا۔ میزنائن فلور پر پھنسے افراد کو نکالنے کی بھی کوشش کی گئی، تاہم وہاں کوئی ریسکیو اہلکار جانے کو تیار نہیں تھا۔
تنویر قاسم نے کہا:
“ہم رات بھر تاجر بے یار و مددگار کھڑے رہے، ریسکیو 1122 کی کوئی ٹیم لوگوں کو نکالنے کے لیے اندر نہیں گئی۔ ہر دس منٹ بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا پانی ختم ہو جاتا یا کسی نہ کسی تکنیکی خرابی کا سامنا ہوتا رہا۔”
آگ کے اثرات اور نقصان
آگ سوا دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور تیزی سے میزنائن اور تیسری منزل تک پھیل گئی۔ فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکلز، پانی اور فوم کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پاک بحریہ کے 70 جوان بھی ریسکیو میں شامل ہیں۔ شدید دھواں اور گرمی کی وجہ سے اندر جانا خطرناک ہو چکا ہے، اور مزید لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ آگ سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ اربوں روپے لگایا جا رہا ہے۔
تنویر قاسم نے کہا:
“ہم تباہ و برباد ہو گئے، اربوں کا نقصان ہوا، نقصان کی بھرپائی تو ہوسکتی ہے لیکن جو جانیں گئی ہیں ان کی بھرپائی کون کرے گا؟”
تاجر برادری کی مہم اور مطالبات
تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آگ لگنے کے بعد فوری اور مؤثر ریسکیو سروس فراہم کی جائے، اور آگ لگنے کی وجوہات اور ریسکیو عملے کی ناکامی کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ مارکیٹ میں ہزاروں افراد موجود تھے اور تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کو بچایا، جس کے بغیر نقصان اور بھی بڑھ سکتا تھا۔
تنویر قاسم نے کہا کہ گل پلازہ میں بارہ سو دکانیں ہیں، اور اگر ہر دکان میں اوسطاً چار افراد بھی ہوں تو دکانداروں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب بنتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو تاجروں نے خود باہر نکالا۔

