کراچی (ویب ڈیسک):
گورنر سٹیٹ بینک، جمیل احمد نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس سال 25 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے واپس کرنے ہیں، جن میں سے تقریباً 12.5 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرضوں کی کمپوزیشن میں کافی تبدیلی آ چکی ہے، اور زیادہ تر قرضے اب لانگ ٹرم ہیں جبکہ پہلے یہ زیادہ تر شارٹ ٹرم تھے۔
گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان نے پہلے ہی 7 ارب ڈالر کے قرضے واپس کر دیے ہیں، اور اس کے ساتھ ملکی مالی استحکام میں بہتری آئی ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کا بیرونی قرض پچھلے 4 سال سے 100 ارب ڈالر سے کم ہی رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا امکان ہے۔
مزید برآں، سٹیٹ بینک نے بتایا کہ سمگلنگ پر کریک ڈاؤن اور دیگر اقدامات کی وجہ سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوا ہے، اور پچھلے 3 سال میں مرکزی بینک نے کھلی مارکیٹ سے 22 ارب ڈالرز خریدے ہیں۔ اس کے علاوہ، سٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بھی نئے حالات کے مطابق تبدیل کر دیا ہے۔
یہ اقدامات ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی قرضوں کے موثر انتظام کی سمت میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
مزید تفصیلات اور تازہ ترین خبریں دیکھنے کے لیے وزٹ کریں:
👉 WWW.B42NEWS.TV

