اسلام آباد: ویب ڈیسک
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر فیصل نے نان فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ اسلحہ رکھنے کے اہل کیسے ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ صرف اسی شخص کے پاس ہونا چاہیے جو ریاست کو ٹیکس ادا کرتا ہو۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل کی زیر صدارت ہوا، جس میں اسلحہ لائسنس کے اجرا اور پالیسی پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے انکشاف کیا کہ نان فائلرز کو 33 ہزار جبکہ فائلرز کو صرف 3 ہزار اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ہدایت کی کہ جو افراد فائلر نہیں ہیں، ان کے اسلحہ لائسنس فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔
چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسلحہ لائسنس جاری ضرور کیے جائیں، تاہم ٹیکس کی ادائیگی کو لازمی شرط بنایا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں اسلحہ لائسنس کے تمام معاملات آن لائن کر دیے گئے ہیں۔ اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بے تحاشا اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، تاہم موجودہ حکومت نے پالیسی سخت کر دی ہے اور اب صرف چند ہزار لائسنس ہی جاری کیے جا رہے ہیں۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ کوئی لائسنسنگ برانچ نہیں بلکہ پالیسی ساز ادارہ ہے، اسی لیے 90 فیصد لائسنس بنانا بند کر دیے گئے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے وارداتوں میں استعمال ہونے والے اسلحہ کے لائسنس بھی فوری منسوخ کرنے کی ہدایت دی، تاہم طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ منسوخی سے قبل مناسب وقت دیا جانا چاہیے، اور اگر ٹیکس ادا نہ کیا گیا تو لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
اجلاس میں ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عرفان اللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ممبران پارلیمنٹ سے متعلق 11 کیسز سامنے آئے، جن میں سے 8 میں اسلحہ برآمد ہو چکا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ اسلحہ سے متعلق ایک لاکھ 57 ہزار شکایات موصول ہوئیں، تاہم مقدمات کم درج ہوئے، جس پر صوبہ وار تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔

