اسلام آباد (بی42 نیوز) — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا چوری ہو کر بیرون ملک استعمال ہونے اور ویب پر فروخت کیے جانے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعل سازی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کے ایک کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا، جبکہ متاثرہ وکیل پاکستان میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص کمیٹی کے سامنے موجود ہے اور اس سے تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔
سینیٹر پلوشہ خان نے سوال اٹھایا کہ نادرا سے شہریوں کی شناخت کیسے چوری ہوئی اور ڈیٹا لیک ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ شہری خود اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں، جس کے باعث ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
تاہم سینیٹر افنان اللہ نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نادرا، بینکوں اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور کسی بھی شہری کا ذاتی ڈیٹا محض 500 روپے میں خریدا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سطح پر ڈیٹا چوری محکمے کے اندر سے کسی کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے حساس ڈیٹا کے تحفظ کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید تفصیلات اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کریں: www.b42news.tv

